منگلورو:16؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز )ایک پرائیویٹ بس میں ہندو نوجوان لڑکی کے ساتھ مسلم نوجوان لڑکا سفر کرنے پر بجرنگ دل کارکنوں نے اعتراض کرتے ہوئے ہنگامہ کرنےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پولس کے مطابق ہندو لڑکی اپنے مسلم دوست کے ساتھ خانگی بس میں منگلورو سے بنگلورو کا سفر کررہی تھی۔جیسے ہی اس کی اطلاع بجرنگ دل کے کارکنوں کو ملی تو منگلورو کے پمپ ویل علاقہ کے قریب بس روکنے کی کوشش کی۔ تاہم جب وہ بس کو نہ روک پائے تو کلاڈکا ٹاؤن میں ارکان کو اس کی اطلاع دے دی جنہوں نے جمعرات کی نصف شب کلاڈکا کے قریب داساکوڈی پر بس روکی۔
انہوں نے لڑکا اور لڑکی کے ایک ساتھ سفر کرنے پر سوال کیا۔ کارکنوں نے خاتون کو ڈانٹا اور دونوں کو بس سے نیچے اترنے کو کہا۔ بعد ازاں بنٹوال پولیس کو اطلاع دی گئی جس نے فوری وہاں پہنچ کر دونوں کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا۔دکشن کنڑ ا ضلع میں دو ہفتو ں کے اندر اخلاقی پولیسنگ کے نام پر غندہ گردی کا یہ چھٹا واقعہ ہے۔ بجرنگ دل کے کارکنوں سے لڑکی کی بحث کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔کارکنوں نے پولیس کو بتایا کہ دونوں ایک ساتھ سلیپر بس میں سفر کررہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی کے والدین کو پولس تھانہ میں طلب کرکےلڑکی کو ان کے ساتھ گھر بھیج دیاگیا۔ پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔